حدیث نمبر: 9127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ رَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سِتْرِ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابن جریج نے کہا: سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور مصر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا: میں تم سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں کہ صحابہ کرام میں سے میں اور تم ہی باقی رہ گئے ہیں، جو اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھے، تو بتلائیے کہ تم نے مؤمن کا پردہ رکھنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی حدیث سنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں کسی مومن کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9127
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، فان ابن جريج لم يدرك احدا من الصحابة، أخرجه : الطبراني في الكبير : 19/ 1067، والحميدي: 384 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17593»