الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي سِتْرِ عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِينَ وَعَدَمِ إشاعتها باب: مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ رَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سِتْرِ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ۔ ابن جریج نے کہا: سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور مصر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا: میں تم سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں کہ صحابہ کرام میں سے میں اور تم ہی باقی رہ گئے ہیں، جو اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھے، تو بتلائیے کہ تم نے مؤمن کا پردہ رکھنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی حدیث سنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں کسی مومن کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔