حدیث نمبر: 9126
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ يَعِيبُهُ بَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ بَغَى مُؤْمِنًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن کو کسی ایسے منافق سے بچایا جو اس کی عیب جوئی کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ نازل کریں گے، جو روزِ قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس نے مؤمن کو عیب دار قرار دینے کے لیے کسی معیوب چیز کے ساتھ اس کا پیچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9126
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اسماعيل بن يحييٰ المعافري فيه جھالة، وذكر الذھبي ھذا الحديث من غرائبه، ويحييٰ بن ايوب، مختلف فيه، حسن الحديث، الا ان له غرائب ومناكيريجتنبھا اصحاب الصحاح، أخرجه ابوداود: 4883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15734»