الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي نُصْرَةِ الْمُؤْمِنِ وَالرَدْ عَنْ عِرْضِهِ باب: مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9126
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ يَعِيبُهُ بَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ بَغَى مُؤْمِنًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن کو کسی ایسے منافق سے بچایا جو اس کی عیب جوئی کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ نازل کریں گے، جو روزِ قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس نے مؤمن کو عیب دار قرار دینے کے لیے کسی معیوب چیز کے ساتھ اس کا پیچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔