حدیث نمبر: 9123
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)) فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَقَالَ ((لَا بَأْسَ لِيَنْصُرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّ لَهُ نُصْرَةً وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکے لڑ پڑے، ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کاانصار سے، اول الذکر نے آواز دی: او مہاجرو! آخر الذکر نے یوں للکارا: او انصاریو! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آگئے اورفرمایا: کیا جاہلیت والی پکار پکاری جا رہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! بس ایک لڑکے نے دوسرے کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مار دیا ہے، (اس وجہ سے لڑائی ہو گئی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن چاہیےیہ کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے، وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے منع کرے،یہ اس کے لیے مدد ہو گی اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی تائید و نصرت کرے۔

وضاحت:
فوائد: … مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9123
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14521»