الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي شَدُ أَزْرِ الْمُؤْمِنِ وَوُدِّهِ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِ وَالتَّالُم لَا لَـمِهِ باب: مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
حدیث نمبر: 9121
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّهُ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ خیر و بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر اس حدیث مبارکہ کے یہ الفاظ بیان کیے جاتے ہیں: ((لَایُؤْمِن أحَدُکُمْ حَتّٰییُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔)) اوریہ الفاظ بھی ثابت ہیں، اس حدیث میں مِنَ الْخَیْرِ کے الفاظ کی زیادتی اس حدیث کے معنی و مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ اَلْخَیْرِ کے کلمے میں بڑی جامعیت پائی جاتی ہے، یہ کلمہ احکام شریعت کی تعمیل اور دنیوی و اخروی مباحات پر مشتمل ہے اور شریعت کے منع کردہ امور کو خارج کرتا ہے۔ یعنی مسلمان کا کامل اخلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو دنیوی خیر و منفعت اور اخروی خیر و بھلائی اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے اسلامی بھائی کے لیے بھی پسند کرے اور جس بری چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے بھائی کے حق میں بھی ناپسند کرے۔