حدیث نمبر: 9120
عَنْ سَيَّارٍ أَنَّهُ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيَّ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَتُحِبُّ الْجَنَّةَ)) قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ((فَأَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ خالد بن عبدا للہ قسری نے کہا، جبکہ وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے: میرے باپ نے میرے دادے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جنت کو پسند کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، وہی کچھ اپنے بھائی کے لیے پسند کر۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو جو خیر و بھلائی اپنے لیے پسند ہو، وہ ان ہی امورِ خیر کو دوسرے مسلمانوں کے لیے پسند کرے اور عملی طور پر حتی الوسع اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کوشش بھی کرے، اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ جیسے گھر کے سربراہ کے ذمے گھر کے افراد کے حقوق ہیں،اسی طرح اس پر رشتہ دار اور غیر رشتہ دار مسلمانوں کے حقوق بھی عائد ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الحاكم: 4/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16772»