الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي شَدُ أَزْرِ الْمُؤْمِنِ وَوُدِّهِ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِ وَالتَّالُم لَا لَـمِهِ باب: مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
حدیث نمبر: 9119
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اہل ایمان لوگوں سے مؤمن کا تعلق وہ ہے جو جسم سے سر کا ہوتا ہے، مؤمن دوسرے اہل ایمان کی خاطر ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے سر کی بیماری کی وجہ سے سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔