حدیث نمبر: 9115
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا فَقَالَ لَهُ أَلَا تَسْتَاكُ فَقَالَ إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دوآدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان کی ضرورت ایک ہی تھی، ان میں سے ایک نے جب گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ سے بد بو محسوس کی اور فرمایا: کیا تو مسواک نہیں کرتا؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتاہوں، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، پس وہ اس کو لے گیا اور اس کی ضرورت پوری کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9115
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان ليّن،يكتب حديثه ولا يحتج به، أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2409»