حدیث نمبر: 9110
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ وَذَكَرَ شَاذَانُ أَيْضًا حَدِيثَ الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص امانتدار ہو تا ہے، جس سے مشورہ طلب کیا جائے۔ شاذان راوی نے یہ حدیث بھی ذکر کی: نیکی پر رہنمائی کرنے والا اس نیکی کو کرنے والے کی طرح ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمان کے لیے خیر و بھلائی کو پسند کرنا، یہ بڑی جامع احادیث ہیں، بظاہر تو دو چار الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔ لیکن دوسرے تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق بیان کر دیئے ہیں، کسی کے لیے خیر چاہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حتی الوسع اس کو فائدہ پہنچایا جائے، اس کو اچھا مشورہ دیا جائے اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، بالخصوص جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مشورہ طلب کرے تو مشورہ دیتے وقت تمام مفید اور مضر پہلوؤں کو واضح کیا جائے اور کسی بخل سے کام نہ لیا جائے۔
اگلے باب کی احادیث پر غور کرنے سے خیر خواہی کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9110
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير ف: 17/ 629 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22718»