الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ باب: مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
عَنْ زَيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ يَخْطُبُ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الْآنَ ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لِأَمِيرِكُمْ فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ۔ زیاد بن علاقہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، اس دن سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا: تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور نیا امیر آنے تک وقار اور سکینت اختیار کرو، بس وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر کہا: اپنے امیر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے معافی کا سوال کرو، کیونکہ وہ معافی کو پسند کرتے تھے۔ ایک حدیث بھی سن لو، أَمَّا بَعْدُ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی کہ میں ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کروں۔ ایک روایت میں ہے: اور تو ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کرے اور کافر سے براء ت کا اظہار کرے۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! میں نے اسی چیز پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، اور اب میں تم سب کی خیرخواہی کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بخشش کا سوال کیا اور نیچے اتر آئے۔