الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ باب: مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9106
عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دَعُوا النَّاسَ فَلْيُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرے تو وہ نصیحت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگوں کو چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والوں اور خریدنے والوں کو چھوڑ دو، وہ آپس میں سودا کر لیں گے، تم بیچ میں آ کر قیمتوں کے مشورے نہ دو اور دلّالی نہ کرو، ہاں جب کوئی آدمی مشورہ طلب کرے تو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اس کی خیرخواہی کر دی جائے۔