حدیث نمبر: 9105
عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے۔ تین دفعہ فرمایا، ایک روایت میں ہے: صرف اور صرف دین خیرخواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں صحیح اعتقاد رکھا جائے اور خلوص نیت کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی خیرخواہییہ ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے، رسول کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی جائے اور اس کے اوامر و نواہی کے تقاضے پورے کیے جائیں،ائمہ مسلمین کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9105
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 55، وعلقه البخاري في صحيحه في باب قول النبي صلي الله عليه وآله وسلم : الدين النصيحة لله ولرسوله ولائمة المسلمين وعامتھم۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17064»