الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ الضَّيَافَةِ وَمَا لِلضَّيْفِ مِنَ الْحَقِّ وَمَا عَلَيْهِ باب: ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 9100
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی طرح مہمان کی ضیافت بھی ایک حق ہے، جیسے جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریات پوری نہ کر رہا ہو تو اس کی بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے اپنا حق چوری کر لیا کرے، ایسے ہی مہمان کا معاملہ ہے کہ میزبان اس کی ضیافت کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ ان سے اپنا حق وصول کر سکتاہے۔ یہ دراصل اسلام کا حسن ہے کہ ایک آدمی اپنے علاقے اور اہل وعیال سے دور ہے تو دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس کی میزبانی کا حق ادا کریں۔