حدیث نمبر: 91
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا لِمَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يُسْلِمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ)) قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: ((غَشْمُهُ وَظُلْمُهُ، وَلَا يَكْتَسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے، اسی طرح اس نے تمہارے مابین تمہارے اخلاق کو بھی تقسیم کیا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی عطا کر دیتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو بھی دے دیتا ہے، جس سے وہ محبت نہیں کرتا، لیکن دین کی نعمت صرف اس کو عطا کرتا ہے، جس سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس کو دین عطا کر دیا، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل اور زبان مطیع نہ ہو جائیں اور کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اس کا ہمسایہ اس کے شرور سے محفوظ رہے۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! بوائق سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ظلم و زیادتی کرنا اور جو آدمی حرام مال کما کر اس کو خرچ کرے گا تو اس میں برکت نہیں ہو گی اور اس سے کیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہو گا اور ایسا آدمی اس قسم کا جو مال بھی اپنے ترکہ میں چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کی جہنم کے لیے اس کا زادِ راہ ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے اور بیشک خبیث چیز، خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔“ (حرام مال خرچ کرنے سے گناہ نہیں مٹتے بلکہ حلال مال خرچ کرنے سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے)۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے مضمون میں جو امور بیان کیے گئے ہیں، دوسری شرعی نصوص ان کا مطالبہ کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 91
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الصباح بن محمد البجلي ۔ أخرجه البزار: 3562، والحاكم: 2/ 447، والبيھقي في الشعب : 5524 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3672»