الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ الضَّيَافَةِ وَمَا لِلضَّيْفِ مِنَ الْحَقِّ وَمَا عَلَيْهِ باب: ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 9098
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقَرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … میزبانی، مہمان کا حق ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استقبال کرے اور حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔