الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ الضَّيَافَةِ وَمَا لِلضَّيْفِ مِنَ الْحَقِّ وَمَا عَلَيْهِ باب: ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 9096
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ فَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِهِ فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔