حدیث نمبر: 9094
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَحَدٍ حَتَّى يُؤْثِمَهُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ ((يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يَقْرِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … جائزہ سے مراد طاقت کے مطابق بہترین کھانا ہے، ویسے ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد مہمان پر صدقہ ہو گا۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9094
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16484»