الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْل ذلِكَ وبركته باب: ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
حدیث نمبر: 9088
عَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَقْرِيهِ أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ قَالَ بَلِ اقْرِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک آدمی کے پاس گیا، اس نے نہ میری ضیافت کی اور نہ میری عزت کی، پھر اگر وہی آدمی میرے پاس آ جائے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو اس کے کیے کا بدلہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تو اس کی ضیافت کر۔