الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْل ذلِكَ وبركته باب: ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
حدیث نمبر: 9086
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالُوا وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مہمان کا اکرام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن، اور اس کے بعد بھی اگر وہ بیٹھا رہے تو ضیافت اس پر صدقہ ہو گی۔