الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ الترغيب فِي الإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ باب: ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9083
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسائے کے علاوہ بندہ سیر نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَـیْـــــًـا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرًا۔} … اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں،یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔ (سورۂ نسائ:۳۶)
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔