حدیث نمبر: 9076
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق ہوتا ہے، لیکن جب ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاکید کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں لگا کہ یہ تو میراث کے بھی حقدار قرار پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9076
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6014، ومسلم: 2624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24764»