الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَفَالَةِ الْيَتیْمِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ، وَمَسْحٍ رَأْسِهِ وَالشَّهْرِ عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ باب: یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے¤اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9066
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کے حقوق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں، بہرحال یتیم اور عورت جیسے بے آسرا افراد کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟