الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَفَالَةِ الْيَتیْمِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ، وَمَسْحٍ رَأْسِهِ وَالشَّهْرِ عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ باب: یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے¤اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ أَوِ ابْنُ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ رَجُلًا مُسْلِمًا كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔