حدیث نمبر: 9065
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ أَوِ ابْنُ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ رَجُلًا مُسْلِمًا كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9065
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 670 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20596»