الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ باب: صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9060
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔