حدیث نمبر: 9056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مدد گار ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … گرم راکھ چبوانے کامطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس برتاؤ کی وجہ سے گویا شدید نفسیاتی اور معاشرتی تکلیف سے دو چار کرنے کا انداز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9056
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7979»