حدیث نمبر: 9055
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونَنِي وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَنِي وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَنِي أَفَأُكَافِئُهُمْ قَالَ لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9055
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6700»