الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ باب: صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونَنِي وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَنِي وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَنِي أَفَأُكَافِئُهُمْ قَالَ لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔