الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ باب: جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے¤سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 905
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَقُولُ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سونے کا ارادہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے نماز والا وضو کرتے اور فرماتے: جو جنابت کی حالت میں سونے کاارادہ رکھتا ہو تو نماز والا وضو کر لیاکرے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ جنبی آدمی کا صبح تک غسل لیٹ کرنا جائز ہے، لیکن ایسی صورت میں اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر کے سوئے۔