حدیث نمبر: 9049
۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمُرِہِ وَیُوْسَعَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، وَیُدَفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔

وضاحت:
فوائد: … ایک طرف تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَائَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ} … اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۳۴)
دوسری طرف یہ حدیث ِ مبارکہ ہے کہ تقوی اور صلہ رحمی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے، جمع و تطبیق کی درج ذیل دو صورتیں ہیں: ۱۔ عمر کی زیادتی سے مراد بابرکت زندگی ہے، یعنی تقوی اختیار کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا مسلمان اپنی مختصر زندگی میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی اطاعت کے اتنے امور سرانجام دے لیتا ہے کہ عام لوگ اتنا کچھ کر سکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
۲۔ زیادتی سے مراد زیادتی ہی ہے، لیکن اس کا تعلق عمر سے متعلقہ فرشتے سے ہے، یعنی اس فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں آدمی صلہ رحمی اختیار کرے تو اس کی عمر نوے برس ہو گی، وگرنہ ساٹھ برس، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس بندے نے صلہ رحمی اختیار کرنی ہے یا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9049
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه البزار: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1213 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»