حدیث نمبر: 9035
۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: دَخَلَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَرَآہُ یُقَبِّلُ حَسَنًا اَوْ حُسَیْنًا، فَقَالَ لَہُ: لا تُقَبِّلْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ وُلِدَ لِیْ عَشَرَۃٌ مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنَّ مَنْ لایَرْحَمُ لایُرْحَمُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

وضاحت:
فوائد: … بندے کا رحمدل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرے گا، اگر کوئی آدمی بہت ہی سخت طبیعت کا مالک ہو تو اس کو چاہیے کہ تکلف کرتے ہوئے اپنی اولاد کے معاملے میں نرمی کر لیا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»