الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ في بر الأولادِ وَالأقَارِبِ الْأَقْرَبِ فَالْاقْرَبِ اب مَا جَاءَ فِي نَمْرَةِ الأَوْلَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِي ادِيهِمْ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ باب: اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
حدیث نمبر: 9034
۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ ، اَبْصَرَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الْاَقْرَعُ یُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِیْ عَشَرَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ قَطُّ! قَالَ: ((اِنَّہُ مَنْ لَایَرْحَمُ لَایُرْحَمُ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔