حدیث نمبر: 9032
۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَقَالَ: النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((فَاَشْھِدْ غَیْرِیْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَیْسَیَسُرُّکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا فِی الْبِرِّ سَوَائً ؟)) قَالَ: بَلٰی، وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَھُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ کَمَا اَنَّ لَکَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْحَقِّ اَنْ یَّبَرُّوْکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9032
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السا بق ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»