الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ في بر الأولادِ وَالأقَارِبِ الْأَقْرَبِ فَالْاقْرَبِ اب مَا جَاءَ فِي نَمْرَةِ الأَوْلَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِي ادِيهِمْ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ باب: اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
حدیث نمبر: 9027
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُحْتَضِنًا أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ طائف، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری قتال تھا، اگرچہ غزوۂ تبوک اس کے بعد پیش آیا، لیکن اس میں جنگ نہیں ہوئی تھی۔