حدیث نمبر: 9026
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ قُلْتُ غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ مِنِ ابْنَةِ جَمْدٍ وَلَوَدِدْتُ أَنْ مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ قَالَ لَا تَقُولَنَّ ذَلِكَ فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بے شک یہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … بچوں کی فکر انسان کو بزدل اور بخیل بنا دیتی ہے، ہر کوئی زندگی کا حریص ہوتا ہی ہے، لیکن جب بچے ہو جائیں تو ان کی خدمت اور نگہداشت کی خاطر انسان اپنی زندگی کو زیادہ قیمتی سمجھنے لگ جاتا ہے اور جہاد جیسے عظیم عمل میںشرکت کرتے وقت بھی فکر مند ہو جاتاہے۔ بہرحال اولاد ایک نعمت ہے، ان کی خدمت میں شرف ہے، لیکن دوسرے شرعی احکام متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 646، والحاكم: 4/ 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22183»