الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ في بر الأولادِ وَالأقَارِبِ الْأَقْرَبِ فَالْاقْرَبِ اب مَا جَاءَ فِي نَمْرَةِ الأَوْلَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِي ادِيهِمْ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ باب: اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ قُلْتُ غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ مِنِ ابْنَةِ جَمْدٍ وَلَوَدِدْتُ أَنْ مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ قَالَ لَا تَقُولَنَّ ذَلِكَ فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بے شک یہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔