حدیث نمبر: 9023
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَبِحَ أَوَاقِيَ فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔

وضاحت:
فوائد: … ایسی چیز خریدنے سے اجتناب کا درس دیا جا رہا ہے، جس کی بندے کے پاس قیمت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی مقروض ہی فوت ہو جائے اور اس کی طرف سے ادائیگی بھی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9023
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله القاضي سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 3344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2093»