حدیث نمبر: 902
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ)) قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ مَا خَلَا رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: کیا کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، البتہ نماز والا وضو کر لے۔ سیدنا ابن عمرؓجب اس طرح کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے، البتہ پاؤں نہیں دھوتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکے عمل کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱)کسی عذر کی بنا پر پاؤں نہ دھوئے
(۲)یہ ثابت کرنے کے لیے پاؤں نہ دھوئے کہ یہ وضو فرض نہیں ہے۔
(۳)عام روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کے دوران آخر میں پاؤں دھوتے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓنے اس فعل سے استدلال کرتے ہوئے پاؤں نہ دھوئے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث تقدم مرفوعه برقم (900)۔ ولفظ القسم المرفوع منه عند عبد بن حميد: ((نعم ويتوضأ وضوء ه للصلاة ما عدا قدميه۔)) فجعل قوله ما عدا قدميه مرفوعا مع انه عند غيره موقوف علي ابن عمر۔ وأخرج فعل ابن عمر ھذا مالك في المؤطا : 1/ 48، وابن ابي شيبة: 1/ 60، والبيھقي: 1/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4929»