حدیث نمبر: 9019
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ وَالِدَانِ قَالَ لَا قَالَ فَلَكَ خَالَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَرَّهَا إِذًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ} … بیشک نیکیاںبرائیوں کو ختم کر دیتی ہیں (سورۂ ہود: ۱۱۴) اس حدیث ِ مبارکہ میں بھییہی قانون بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9019
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 1904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4624»