حدیث نمبر: 9017
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ مِنْ قِبَلِهِ بِرًّا بِالْعِيَالِ قَالَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالِهِ صِغَارًا يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جو آدمی کمانے کے قابل نہ ہو، اس کا سہارا بننا بڑی نیکی ہے، بالخصوص اگر وہ فرد چھوٹی عمر میں ہو اور وہ بھی اولاد ہو تو اس کی ضروریات پوری کرنا والدین کی سعادت ہوگی، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اجر و ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کیا کریں، لیکن تکلف سے بچیں اور دوسرے غریب بچوں کابھی خیال رکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9017
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22820»