حدیث نمبر: 9015
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … صدقہ و خیرات باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے، لیکن عام صدقہ سے پہلے اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ والدین، اولاد، بیوی اور دوسرے قرابتداروں کی ضروریات کو مقدم کرنا چاہیے، آج کل لوگ بیوی بچوں پر تو تکلف کی حد تک خرچ کرتے ہیں، لیکن دوسرے رشتہ داروں سے مکمل بے رخی اختیار کرتے ہیں اور ان کا نظریہیہ ہوتا ہے کہ اگر ایک بار کسی کو دے دیں تو وہ دوبارہ جان نہیں چھوڑتا۔ ایسے لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے، اگر کوئی رشتہ دار دوبارہ آ جائے اور گنجائش ہو تو بار بار اس کے آنے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے اور اگر گنجائش نہ ہو تو اچھے طریقے سے معذرت کر لینی چاہیے۔
بہرحال عام خیراتی اداروں اور ہسپتالوں میں صدقہ دینے سے پہلے غریب رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے، ان کی ضرورت پوری کرنے کے بعد مزید صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9015
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 997 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14324»