حدیث نمبر: 9014
(عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کی کمائی میں والدین کا حق ہے، لیکن اس ضمن میں درج ذیل روایت مد نظر رکھنا ضروری ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُورَ} [الشوری:۴۹] فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) … بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} (سورۂ شوری: ۴۹) وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب تمھیں ان کی ضرورت پڑے۔ (حاکم:۲/۲۸۴، بیہقی:۷/۴۸۰، صحیحہ: ۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
معلوم ہو اکہ یہ جائز نہیں ہے کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا کر سکتا ہے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۶۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9014
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 241 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24636»