الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9011
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي فِي مُدَّةِ قُرَيْشٍ (وَفِي لَفْظٍ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمُ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) مُشْرِكَةً وَهِيَ رَاغِبَةٌ يَعْنِي مُحْتَاجَةً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ صِلِي أُمَّكِ {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15]ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
وضاحت:
فوائد: … ثابت ہوا کہ اگر والدین کافر اور مشرک ہوں، تب بھی وہ اپنی اولاد کے حسن سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْم’‘ فَـلَا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا} … اور اگر وہ (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔ (سورۂ لقمان: ۱۵)
غور فرمائیں کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔ یہ آیت والدین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غور فرمائیں کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔ یہ آیت والدین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔