حدیث نمبر: 9009
عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ قَالَ هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ قَالَ لَهُ مَرَّاتٍ قَالَ لَا قَالَ فَاسْقِ الْمَاءَ قَالَ كَيْفَ أَسْقِيهِ قَالَ اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض رضی اللہ عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔

وضاحت:
فوائد: … والدین کے حق کو واضح کرنے اور اس میں تاکید پیدا کرنے کے لیے سوال دوہرایا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9009
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عياض بن مرثد مجھول، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 7/ 25، والطبراني في الكبير : 17/ 1014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23512»