حدیث نمبر: 9008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَأَبَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ طَلِّقْ امْرَأَتَكَ فَطَلَّقَهَا (وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا) فَقَالَ أَطِعْ أَبَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی اطاعت، نفس کی خواہش پر مقدم ہے، جب ان کا حکم دین کے زیادہ موافق نظر آ رہا ہو، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندی کی وجہ عورت کی قلت ِ دین ہو گی۔
اس حدیث میں والدین کی اطاعت کی ایک مثال بیان کی گئی ہے، امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھا: یہ واضح دلیل تقاضا کرتی ہے کہ جب باپ اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دے تو وہ ان کے حکم پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اگرچہ اس کو اپنی بیوی سے محبت ہو، کیونکہیہ محبت والدین کے حکم کے سامنے عذر نہیں بن سکتی، اس حدیث میںصرف باپ کا ذکر ہے، لیکن ماں کے حکم کی بھییہی حیثیت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری حدیث میں یہ وضاحت فرما دی ہے کہ بیٹے پر اس کے باپ کی بہ نسبت اس کی ماں کا حق زیادہ ہے۔(تحفۃ الاحوذی) ہاں اگر والدین کے حکم کی بنیاد دینی و اخلاقی بنیادوں پر نہ ہو تو ادب و احترام سے ان کو سمجھایا جائے تاکہ وہ بھی راضی ہو جائیں اور خواہ مخواہ عورت پر بھی ظلم نہ ہو، وگرنہ والدین کے حکم کو بیوی پر ترجیح دے کر اس کو رخصت کر دیا جائے۔
لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنے بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9008
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 5138، وابن ماجه: 2088، والترمذي: 1189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5011»