حدیث نمبر: 9007
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ كَانَ فِينَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِهِ أُمُّهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ حَتَّى تَزَوَّجَ ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالشَّامِ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي لَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ ثُمَّ أَمَرَتْنِي أَنْ أُفَارِقَ قَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُفَارِقَ وَمَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُمْسِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْ قَالَ فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9007
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28061»