حدیث نمبر: 9006
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَيْضًا قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي بِنْتُ عَمِّي وَأَنَا أُحِبُّهَا وَإِنَّ وَالِدَتِي تَأْمُرُنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَقَالَ لَا آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَهَا وَلَا آمُرُكَ أَنْ تَعْصِيَ وَالِدَتَكَ وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْوَالِدَةَ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9006
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22069»