الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَتْهُ أُمُّهُ أَوْ أَبُوهُ أَوْ كِلَاهُمَا قَالَ شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى يُطِيلُهَا فَصَلَّى مَا بَيْنَ الظَّهْرِ وَالْعَصْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبَرَّ وَالِدَيْكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى الْوَالِدِ أَوِ اتْرُكْ۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔