حدیث نمبر: 9002
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ باپ پورے کنبے کا کفیل ہوتا ہے، محنت مزدوری کر کے اپنے بیوی بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے، لیکن بچے کے سلسلے میں جو شفقت بھری خدمات ماں کو سر انجام دینا پڑتی ہیں، وہ کسی کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہیں۔ نوماہ تک حمل کی صعوبتیں،ولادت کے کٹھن مراحل، بچے کو اپنی چھاتی سے خوراک مہیا کرنا، دن رات اس نگہداشت اور صفائی ستھرائی کے حقوق ادا کرنا، اس کی تکلیف پر بے چین ہو جانا اور بچے کی ہر قسم کی تکلیف کو رفع کرنے میں اپنا سکون سمجھنا، جبکہ ہر مرحلے میں ماں شفقت کرتی ہے، بوجھ نہیں سمجھتی، اللہ اکبر۔ اگر رات کی گہری نیند والی گھڑیوں میں بچہ کسی چیز کا مطالبہ کر دے تو جو ہستی بچے کے مطالبے کو پورا کرنے میں اپنا سکون سمجھے گی، اسی کو ماں کہتے ہیں۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9002
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5139، والترمذي: 1897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20281»