حدیث نمبر: 900
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَصْنَعُ أَحَدُنَا إِذَا هُوَ أَجْنَبُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ لِيَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے یہ سوال کیا کہ جب ہم میں سے کسی آدمی کو جنابت لاحق ہو جائے اور پھر وہ سونا بھی چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز والا وضو کر لے، پھر سوجائے۔

وضاحت:
فوائد: … مسند احمد (۱۶۵) میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں: سیدنا عمر ؓنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی آدمی جنبی ہو تو کیا وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَتَوَضَّأُ وَیَنَامُ اِنْ شَائَ۔)) … اگر وہ چاہتا ہے تو وضو کر کے سو جائے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جنابت والے آدمی کے لیے سونے سے پہلے وضو کر لینا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 900
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 287، 289، ومسلم: 306 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 94 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 94»