حدیث نمبر: 90
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: ((قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ: ((هَذَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ اس کے ساتھ چمٹ جاؤں (اور اس کا اہتمام کروں)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو کہ میرا رب اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ میری کس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں؟“ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اس سے۔“

وضاحت:
فوائد: … کہنے کو تو استقامت ایک لفظ ہے، لیکن یہ ایسا جامع لفظ ہے، جو اوامر اور نواہی کو شامل ہے، جب کوئی آدمی کسی فرض کو ترک کرتا ہے یا حرام کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ راہ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے اور استقامت کو چھوڑ بیٹھتا ہے، استقامت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اوامر و نواہی پر نہایت ثابت قدمی سے عمل کرنا اور فرائض و سنن اور مستحبات و مندوبات کو بجا لاتے رہنا اور محرمات و منہیات سے اجتناب کرنا۔ محض زبان سے اظہار کر دینے کا نام ایمان نہیں ہے، بلکہ اصل ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہو، اس لیے کہ عمل ایمان کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ جس طرح بے ثمر درخت کی کوئی اہمیت نہیں، اسی طرح عمل کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں اور استقامت کمالِ ایمان کی علامت ہے۔
زبان کی حفاظت اور زبان کی آفتیں، یہ اپنی نوعیب کا مستقل اور انتہائی اہم باب ہے، دورِ حاضر کے اکثرخواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی زبانوں کی حفاظت کے سلسلے میں انتہائی نااہل ثابت ہوئے ہیں، بدگوئی، فحش گوئی، طعن و تشنیع، چغلی و غیبت، سب و شتم اور گالی گلوچ ان کا معمول بن چکا ہے، ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری جس چیز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ ڈر تھا، ہم اس کا مصداق بن گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 90
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3972 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15496»