حدیث نمبر: 9
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي لَقِيتُ بَعْضَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ كُنْتُ أَكْرَهُهَا مِنْكُمْ، فَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں بعض اہل کتاب کو ملا ہوں اور انہوں نے مجھے کہا: تم (مسلمان) بڑے اچھے لوگ ہو، کاش تم یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے جو) اللہ چاہتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہتا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہاری اس بات کو ناپسند کرتا تھا، آئندہ اس طرح کہا کرو کہ جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور پھر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) چاہتا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 9
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 2118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23728»