حدیث نمبر: 8996
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔

وضاحت:
فوائد: … اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی خدمت کرنے میں اس کے پاؤں کے نیچے روندی جانے والی مٹی بن جا، یعنی ماں کی جائز خواہش کو دوسری مخلوقات کی خواہشات سے مقدم سمجھ کر پہلے اس کو پورا کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8996
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 11، وابن ماجه: 2781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15623»