الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8994
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے اور دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور یہ سند بھی اہل علم کے ہاں ضعیف ہوتی ہے۔ ہاں بعض میں ابن لہیعہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ روایت صحیحیا حسن ہے تو مذکورہ وجہ ضعف کا انجبار ہونا چاہیے ورنہ اسے صحیحیا حسن کہنا ٹھیک نہیں۔(عبداللہ رفیق)